Thursday, April 8, 2010

~~~ 01 ~~~

~~~

یہ قصۂ زندگی ہے یا پھر
افسانۂ ہجر لکھ رہے ہیں
کیا جانیے کس کے نام آخر
ہم نامۂ ہجر لکھ رہے ہیں

اک موجۂ باد ِسرد گویا
یادوں کا ورق اُلٹ رہا ہے
اپنے ہی نقوش ِپا پہ چل کر
دل پیچھے کہیں پلٹ رہا ہے

بہتے ہوے ریگ ِزرد رُو پر
آغاز ِ خزاں کی سہ پہر میں
رکتی ہے نگاہ دھیرے دھیرے
اک یاد کے بے صدا شہر میں



~~~ 02 ~~~

~~~

ایک ایسا نگر کہ جس کے اندر
ہنگام ہے رنج اور خوشی کا
اک سمت میں باغ ِ آرزو ہے
اک سمت ہے دشت زندگی کا

اُس دشت پر ابر ِدل زدہ ہے
قریے میں نمی ہے آنسوؤں کی
ملبوس کو موج چھیڑتی ہے
مانوس، اداس موسموں کی

ہر واقعہ وہم کی طرح سے
ہر سلسلہ ہی سراب سا ہے
تعبیر کی طرح جس کو جھیلا
اب سارا سماں وہ خواب سا ہے



~~~ 03 ~~~

~~~

وہ وقت عجیب وقت تھا جب
دیکھا کوئی نور دھندلکے نے
سہمے ہوئے ہوش کی زمیں پر
جب پاؤں رکھا تھا بچپنے نے

تھی ختم زمین دو قدم پر
بالشت بھر آسماں تھا اپنا
کھڑکی سے نگاہ میں سماتا
بس اتنا بڑا جہاں تھا اپنا

بُھولے ہوئے اپنی صورتوں کو
کچھ لوگ تھے اِرد گرد ایسے
سایوں کی طرح بکھرنے والے
ہوں خواب و خیال و وہم جیسے



~~~ 04 ~~~

~~~

رشتوں سے بھرے ہوئے مکاں میں
تنہائی، رفیق تھی ہماری
آوازوں سے گونجتے جہاں میں
خاموشی رفیق تھی ہماری

دنیا سے نہیں تھا ربط کوئی
اک رابطہ بس کتاب سے تھا
آگاہ تھا راحتوں سے بھی تن
اور آشنا ہر عذاب سے تھا

کیا میوز کہ اُس نگر کے باسی *
واقف ہی نہ تھے سرسوتی سے **
بس رشتۂ حرف کی بدولت
تھا واسطہ اپنا زندگی سے

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

انگریزی میں، شاعرانہ الہام ۔ ( Muse)*
یونانی میں،شاعری کی دیوی

سرسوتی ۔ ہندی اساطیر میں فنون ِلطیفہ کی دیوی **


~~~ 05 ~~~

~~~

تاروں سے تہی تھیں اپنی راتیں
اور دن تھے بہت ہی خالی خالی
دل، شوق و مراد کا طلب گار
آنکھیں، کسی خواب کی سوالی

اپنی ہی سمجھ میں جو نہ آتی
کچھ ایسی عجیب جستجو تھی
کب سامنے راستہ کوئی تھا
بس شہر ِسبا کی آرزو تھی

ایسے میں وہ حادثہ جو گزرا
لگتا تھا بہت حسیں نظر کو
سچ تھا کہ کوئی فسانہ تھا وہ
آتا ہی نہ تھا یقیں نظر کو



~~~ 06 ~~~

~~~

رنگوں کی وہ پہلی پہلی بارش
اور روپ، روپہلی چاندنی سا
وہ خواب کا بھیگا بھیگا موسم
اور خواب بھی سبز روشنی سا

اپنے ہی وجود کا پتہ جب
اپنے ہی وجود میں ملا تھا
اِس دل کی فضا مہک گئی تھی
یوں غنچۂ آرزو کِھلا تھا

ہم ایک خیال میں تھے غلطاں
مصروف تھے سیر ِگلستاں میں
کیوپڈ بھی وہیں پہ منتظر تھا
کھینچے ہوئے تِیر اک کماں میں



~~~ 07 ~~~

~~~











~~~ 08 ~~~

~~~








~~~ 09 ~~~

~~~











~~~ 10 ~~~

~~~







~~~ 11 ~~~

~~~





~~~ 12 ~~~

~~~





~~~ 13 ~~~

~~~








~~~ 14 ~~~

~~~








~~~ 15 ~~~

~~~




~~~ 16 ~~~

~~~




Friday, April 2, 2010

~~~ 17 ~~~

~~~






~~~ 18 ~~~

~~~







~~~ 19 ~~~

~~~






~~~ 20 ~~~

~~~




~~~ 21 ~~~

~~~






~~~ 22 ~~~

~~~




~~~ 23 ~~~

~~~



~~~ 24 ~~~

~~~







~~~ 25 ~~~

~~~









~~~ 26 ~~~

~~~









~~~ 27 ~~~

~~~








~~~ 28 ~~~

~~~







~~~ 29 ~~~

~~~


~~~ 30 ~~~

~~~







~~~ 31 ~~~

~~~

~~~ 32 ~~~

~~~






~~~ 33 ~~~

~~~








~~~ 34 ~~~

~~~








~~~ 35 ~~~

~~~








~~~ 36 ~~~

~~~







~~~ 37 ~~~

~~~





~~~ 38 ~~~

~~~





~~~ 39 ~~~

~~~




~~~ 40 ~~~

~~~





~~~ 41 ~~~

~~~










~~~ 42 ~~~

~~~







~~~ 43 ~~~

~~~







~~~ 44 ~~~

~~~







~~~ 45 ~~~

~~~








~~~ 46 ~~~

~~~






~~~ 47 ~~~

~~~









~~~ 48 ~~~

~~~








~~~ 49 ~~~

~~~







~~~ 50 ~~~

~~~